پیر 19 اکتوبر 2026 - 16:11
علامتی تصویر
علامتی تصویر

حوزہ/ سعودی عرب میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کو مکہ مکرمہ کے علاقے میں سزائے موت دیے جانے کے معاملے پر بنگلہ دیش نے سعودی حکام سے وضاحت طلب کی ہے۔ سعودی وزارتِ داخلہ نے دعویٰ کیا ہے دونوں افراد مسجد میں مبینہ غیر اخلاقی فعل انجام دے رہے تھے، جس کے الزام میں عدالتی کارروائی کے بعد تعزیری سزا دی گئی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کو مکہ مکرمہ کے علاقے میں سزائے موت دیے جانے کے معاملے پر بنگلہ دیش نے سعودی حکام سے وضاحت طلب کی ہے۔ سعودی وزارتِ داخلہ نے دعویٰ کیا ہے دونوں افراد مسجد میں مبینہ غیر اخلاقی فعل انجام دے رہے تھے، جس کے الزام میں عدالتی کارروائی کے بعد تعزیری سزا دی گئی، جبکہ بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ انہیں سزا پر عمل درآمد سے قبل مطلع نہیں کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر دونوں شہریوں کے میاں بیوی ہونے، عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانے اور ایک ویڈیو کے ذریعے معاملہ سامنے آنے کے دعوے بھی گردش کر رہے ہیں۔

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی (SPA) کے حوالے سے جاری بیان کے مطابق، 14 اکتوبر 2026ء کو مکہ مکرمہ کے علاقے میں دونوں بنگلہ دیشی شہریوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔ دستیاب رپورٹس میں مرد کا نام ناظرالاسلام عبدالبصیر اور خاتون کا نام سویٹی اختر بتایا جا رہا ہے۔

سعودی وزارتِ داخلہ کا مؤقف

سعودی وزارتِ داخلہ کے مطابق، سکیورٹی حکام نے دونوں افراد کو گرفتار کرنے کے بعد تحقیقات کیں اور انہیں متعلقہ عدالت میں پیش کیا۔ سرکاری بیان میں کہا گیا کہ عدالت نے الزام ثابت ہونے پر تعزیری سزا کے طور پر سزائے موت سنائی، جس کی توثیق کے بعد شاہی حکم کے تحت اس پر عمل درآمد کیا گیا۔

وزارتِ داخلہ نے مبینہ فعل کی سنگینی اور وقت و مقام کے تقدس کی خلاف ورزی کو سزا کی وجہ قرار دیا، تاہم بیان میں واقعے کی مکمل تفصیلات، مسجد کا نام، مبینہ فعل کی اصل نوعیت اور عدالتی فیصلے میں پیش کیے گئے شواہد کی وضاحت نہیں کی گئی۔

بنگلہ دیش کا سفارتی ردِعمل

بنگلہ دیشی اخبار دی ڈیلی اسٹار کے مطابق، جدہ میں بنگلہ دیش کے قونصل جنرل کے دفتر نے کہا کہ سعودی حکام نے دونوں شہریوں کی سزائے موت پر عمل درآمد سے پہلے بنگلہ دیشی مشن کو اطلاع نہیں دی تھی۔ اس کے بعد بنگلہ دیشی مشن نے سعودی وزارتِ خارجہ کو سفارتی مراسلہ، یعنی نوٹ وربال (Note Verbale)، ارسال کرکے واقعے کی باضابطہ تصدیق اور تفصیلات طلب کیں۔

18 اکتوبر کو بنگلہ دیشی وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور شما عبید اسلام نے صحافیوں کو بتایا کہ وزارتِ خارجہ نے سعودی سفیر سے اس معاملے پر معلومات طلب کی ہیں۔

دی ڈیلی اسٹار کی 19 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، سعودی حکام نے اس سے قبل بنگلہ دیشی مشن کو قیدیوں کی فہرست فراہم کی تھی، تاہم اس میں دونوں شہریوں کی سزائے موت سے متعلق تفصیلات شامل نہیں تھیں۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) نے اپنی رپورٹ میں دونوں بنگلہ دیشی شہریوں کی سزائے موت اور ڈھاکا کی جانب سے پیشگی اطلاع نہ ملنے پر وضاحت طلب کرنے کو نمایاں کیا۔ رپورٹ میں سعودی حکام کے بیان اور بنگلہ دیشی حکومت کے سفارتی ردِعمل کا ذکر کیا گیا۔

بنگلہ دیشی اخبار دی ڈیلی اسٹار نے بھی اس معاملے میں سفارتی رابطوں، قیدیوں کی فہرست اور سزائے موت سے متعلق معلومات کی عدم دستیابی پر توجہ مرکوز کی۔ بھارتی میڈیا ادارے انڈیا ٹوڈے نے سعودی حکام کے بیان اور دونوں شہریوں کو دی گئی سزا کی رپورٹنگ کی۔

سویٹی اختر اور عمرہ کے سفر سے متعلق سوشل میڈیا کے دعوے

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی پوسٹوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ناظرالاسلام عبدالبصیر اور سویٹی اختر میاں بیوی تھے اور عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب گئے تھے۔ بعض پوسٹوں میں ان کے سفر کو ازدواجی زندگی کے آغاز کے بجائے مقدس مقامات کی زیارت سے جوڑا گیا ہے۔

ان دعووں کے ساتھ یہ بات بھی بیان کی جا رہی ہے کہ مسجد میں دونوں کے بوسہ لینے کی ویڈیو ایک پاکستانی شہری نے بنائی تھی اور اسی ویڈیو کے بعد ان کے خلاف کارروائی ہوئی۔

تاہم، دونوں کے ازدواجی تعلق، عمرہ کے سفر، ویڈیو بنانے والے شخص کی شناخت اور ویڈیو کے مقدمے میں کردار سے متعلق تفصیلات کی آزادانہ تصدیق دستیاب سرکاری بیانات اور مذکورہ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس سے نہیں ہوتی۔ ان دعووں کی حتمی تصدیق کے لیے متعلقہ حکام کا بیان، سفری ریکارڈ اور عدالتی دستاویزات سامنے آنا ضروری ہے۔

سزائے موت کی شرعی و قانونی بنیاد پر سوالات

سعودی وزارتِ داخلہ نے سزا کو تعزیر کے زمرے میں بیان کیا ہے۔ اسلامی فقہ میں تعزیر ایسی سزا ہے جس کا تعین متعلقہ شرعی و قانونی اصولوں کے تحت مجاز عدالتی اختیار کے دائرے میں کیا جاتا ہے۔ تاہم، تعزیر کا اطلاق بذاتِ خود ہر جرم کے لیے سزائے موت کے جواز کو ثابت نہیں کرتا۔

اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ مسجد میں مبینہ غیر اخلاقی فعل کے لیے سزائے موت کی مخصوص شرعی بنیاد کیا تھی؟ کیا مبینہ جرم کی نوعیت اور اس کے ثبوت سے متعلق تفصیلات عدالتی فیصلے میں واضح کی گئی تھیں؟ اور کیا متعلقہ فیصلے اور شواہد کو عوامی جانچ کے لیے پیش کیا جائے گا؟

کسی فعل کو غیر اخلاقی یا گناہ قرار دینا اور اس کے لیے سزائے موت کو شرعاً جائز قرار دینا دو الگ امور ہیں۔ اس لیے اس معاملے میں شرعی حکم کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے کے لیے اصل عدالتی فیصلے، ثابت شدہ جرم اور متعلقہ فقہی اصولوں کا جائزہ ضروری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha